دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2200
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,331
سوال (Question):
کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
سوال : کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں اور حوالہ میں فتاوی امجدیہ کی یہ عبارت پیش کرتا ہے کہ چادر اوڑھنے میں بہتر یہ ہے کہ سر سے اوڑھے. اس طرح اوڑھنا مطابق سنت ہے اور کندھے سے اگر اوڑھے جب بھی نماز ہو جائے گی نماز میں کراہت نہیں. (جلد اول صفحہ 200 حالانکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 417 پر ہے کہ حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ چادر اگر رکوع میں یا کھڑے ہونے سے گر جائے تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سر پر رکھ لینا چاہیے اگر نہیں رکھے گا تو نماز مکروہ ہوگی. اور اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے اس قول کا رد بھی نہیں فرمایا تو ان دونوں اقوال میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ چادر سر سے اڑ کر نماز پڑھنا سنت ہے. کندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے. فتاوی امجدیہ میں ” کراہت نہیں ” سے مراد کراہت تحریمی نہیں ہے . اور فتاوی رضویہ میں کراہت سے مراد تنزیہی ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے جو حدیث نقل فرمائی ہے وہ کراہت تحریمی کے اثبات کے لیے کافی نہیں کہ مکروہ تحریمی کا اثبات اس سنت کے ترک سے ہوگا جو سنت ھدی مثل اذان و جماعت کے ہو ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 375
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat