دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1867
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کافروں کا دیا ہوا چندہ مسجد میں لینا جائز ہے یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,232
سوال (Question):
کافروں کا دیا ہوا چندہ مسجد میں لینا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کافروں کا دیا ہوا چندہ مسجد میں لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کافروں کا دیا پیسہ مسجد کے لے لینا جائز ہے کہ نہیں اسی طرح مدرسہ اور درگاہ کے لیے بھی کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اگر کافرمسلمانوں کو روپیہ بغیر مانگے اپنی مرضی سے دے دے پھر مسلمان اس روپے کا مالک ہو کر مسجد بنائے تو جائز ہے بشرطیکہ کافر کی مسجد ومدرسہ وغیرہ میں کوئی مداخلت نہ رہے اور چندہ دے کر مسلمانوں پر کوئی احسان رکھے. اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں” اور اگر کافر اس طور پر روپے دیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں اس کی کوئی مداخلت رہے گی یا اس بات کا اندیشہ ہو کہ مندر یا رام لیلا وغیرہ میں مسلمانوں کو چندہ دینا پڑے گا یا کافر کی تعظیم کرنی پڑے گی تو لینا جائز نہیں البتہ اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں. ( فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 396) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد شمس الدین احمد علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat