بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1931 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
چھ ماہ سے کم کی مدت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نکاح صفر کی ۵/ تاریخ کو ہندہ سے ہوا اور اسی سال رجب المرجب کی ٢٨/ تاریخ میں ہندہ کو لڑکا پیدا ہوا بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والا یہ لڑکا زید کا نہیں ہے اس لیے کہ یہ لڑکا نکاح کے وقت سے چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے پیدا ہوا ہے جب کہ زید دعویٰ کر رہا یہ لڑکا میرا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکے کا نسب زید سے ثابت ہوگا یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ المستفتی:محمد نوشاد علیمی اشرفی ناسک مہاراشٹرا . الجواب بعون الملک الوھاب حمل کی اقل مدت چھ ماہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ (الاحقاف :١٥) دوسری جگہ مدت رضاعت دو سال بیان کی گئی ہے، ارشاد ہے : وَٱلْوَٰلِدَٰتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٰدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَ() نتیجۃ حمل کی اقل مدت چھ مہینے ہوگی. لہذا اس مدت سے کم میں اگر بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ ثابت النسب نہیں ہوگا اگرچہ شوہر کہے کہ یہ میرا لڑکا ہے. ہدایہ میں ہے: وإذا تزوج الرجل امرأة ،فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر منذ يوم تزوجها لم يثبت نسبه؛لأن العلوق سابق على النكاح ،فلا يكون منہ .وإن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا يثبت نسبه، اعترف به الزوج أو سكت.(الھدایۃ: ٢/ ٢٨٠) فتاویٰ عالم گیری میں ہے: "وإذا تزوج الرجل امرأۃ فجاءت بالولد لأقل من ستۃ أشہر منذ تزوجہا لم یثبت نسبہ وان جاءت بہ لستۃ اشھر فصاعدا یثبت نسبہ منہ اعترف بہ الزوج او سکت فان جحد الولادۃ تثبت بشھادۃ امراۃ واحدۃ تشھد بالولادۃ کذا فی الھدایۃ” (فتاویٰ عالمگیری، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب،١/ ٥٣٦) فتاویٰ شامی میں ہے: فلو جاء ت الموطوء ة بزناً بولد-لأقل من ستة أشھر من وقت النکاح لا یثبت النسب ولا یرث منہ الخ (رد المحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ۴/ ۱۴۲) واللہ تعای اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یکم رجب ١٤٤٣ / ٣ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ