لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

چوری کا موبائل خریدنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

چوری کا موبائل خریدنا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ حضورِ والا آپ کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ہمارے ایک دوست نے ایک چور سے موبائل خریدی بہت کم قیمت میں تو کیا ایسوں سے کوئی چیز خریدنا جائز ہے کم قیمت ہونے سے معلوم یہی پڑتا ہے کہ چوری کی موبائل ہے پر چور کا کہنا ہے کہ چوری کی نہیں ہے کیا چور کی بات صحیح جان کر خرید سکتے ہیں جب کہ خرید نے والے کو زیادہ گمان یہی ہے کہ چوری کی ہے سائل: محمد الیف الرحمٰن صابری کٹیہاری بہار انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں موبائل خریدنا حرام ہے وجہ یہ کہ خریدار کو غالب گمان ہے کہ موبائل چوری کی ہے اور اس صورت میں خریدنا حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "چوری کا مال دانستہ خریدناحرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کہ اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں ” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١٧، ص١٦٥، باب البیع الفاسد والمکروہ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب ۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات