بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2332 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام کہ اکثر لوگ اس مسئلہ کوبہت بیان کرتے ہیں کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ سکتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ اکٹھا ہوں ان میں کوئی ایک جنتی ہوگا ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے جو صحیح ہو مع حوالہ جواب سے سرفراز فرمائیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں لوگوں کا یہ بیان کرنا کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے درست ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوے رقمطراز ہیں کہ اولیا اللہ کی دوقسم ہے تشریعی ولی۔ تکوینی ولی ۔تشریعی ولی یعنی اللہ سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں۔ تکوینی ولی وہ ہوتے ہیں جنھیں عالم میں تصرف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ان کی جماعت مخصوص ہے جیسے قطب، غوث ابدال وغیرہ اور سب قیامت کے ڈر اور رنج سے ۔یا دنیا کے خوف و غم سے محفوظ ہیں (ماخوذ از مراۃ المناجیح ج ٨ص ٥٨٤) ایک دوسری جگہ مرقاۃ المصابیح ک حوالے سے فرماتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ جمع ہوں ان میں کا کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے خیال رہے کہ اس سے بھی مراد تشریعی ولی ہے اور مسلمان سے مراد متقی مسلمان ہیں ورنہ سنیماؤں وغیرہ میں ہزاروں فساق ہوتے ہیں ۔ (مرقاۃ المناجیح ج2ص 473 ) واللہ اعلم بالصواب کتبہ. شاہد رضا امجدی جامعی پکڑیا جوت گنڈاہی گونڈا
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ