بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1315 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ زید کا انتقال ہوا اور اس نے چار بیٹے چھ بیٹیاں اور ایک بیوی چھوڑی دوسری بیوی کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا اب ان کے بیٹوں میں جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اختلاف ہوگیا ہے کچھ کہتے ہیں کل مال کے دوحصے کئے جائیں کیوں کہ ان کی دوبیویاں تھیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کل مال کے چار حصے کرکے ہر بیٹے کو برابر برابر دیدیا جائے اب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے حساب سے کتنے حصے لگیں گے اور کس کو کتنا ملے گا بتا دیجئے۔ سائل: آصف کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ زید کے ایک سو بارہ (١١٢) حصے کریں گے پھر اس میں سے چودہ حصے زید کی اس بیوی کو دیں گے جو اس کے انتقال کے وقت باحیات تھی اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے دیں گے زید کی جس بیوی کا انتقال اس کی حیات میں ہوگیا تھا اسے زید کے ترکہ سے کچھ نہ ملے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: "اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: "فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہاری اولاد ہوں تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔میت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ