بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1407 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پیر طریقت کون لکھ سکتا ہے
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ پیر طریقت کون لکھ سکتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی مولانا جعفر القادری ناظم بستوی یوپی انڈیا۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب فتاوی رضویہ میں ہے: "حسب تصریح ائمہ کرام پیر میں چار شرطیں لازم ہیں (١) سنی صحیح العقیدہ ہو۔ (٢) علم دین بقدر کافی رکھتا ہو۔ (٣) کوئی فسق اعلانیہ نہ کرتا ہو۔ (٤) اس کا سلسلہ حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم تک صحیح اتصال کے ساتھ ملا ہو۔” اھ (ج٢٦ ، ص٥٦٨، رضا فاؤنڈیشن لاہور) جس میں مذکورہ بالا چاروں شرائط موجود ہوں اسے پیر طریقت لکھنا روا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ