لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

پرندوں کو پالنا اور بیچنا کیسا؟ / پرندے پالنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پرندوں کو پالنا اور بیچنا کیسا؟

سوال :حضرت پرندوں کو پالنہ کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں بطورِ دلیل؟ سائل : حافظ محمد پرویز نوری امام ولی محمد اشرفی مسجد مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب پرندے رکھنا اور ان کو پالنا شرعاً جائز ہے، اور شرع میں اس کی ممانعت نہیں کی گئی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے بھائی ابو عمیر نے ایک چڑیا پال رکھی تھی۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لاتے تو پوچھتے تھے: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ نُغَرٌ کَانَ يَلْعَبُ بِه. ’’اے ابو عمیر! نغیر (ایک پرندہ) کا کیا کیا؟ وہ بچہ اس پرندہ سے کھیلتا تھا‘‘۔ بخاري، الصحيح، 5: 2291، رقم: 5850، دار ابن کثير اليمامة بيروت مسلم، الصحيح، 3: 1692، رقم: 2150، دار احياء التراث العربي بيروت مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت انس کے گھر میں ان کے بھائی نے ایک پرندہ پال رکھا تھا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں دریافت فرماتے، مگر آپ نے اسے رکھنے سے منع نہیں کیا۔ تو معلوم ہوا کہ پرندوں کو گھر میں پالنے کی اجازت ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: إن في الحديث دلالة على جواز إمساك الطير في القفص ونحوه، ويجب على من حبس حيواناً من الحيوانات أن يحسن إليه ويطعمه ما يحتاجه لقول النبي اس حدیث سے پرندے کو پنجرے وغیرہ میں بند کرنے کے جواز پر دلیل ملتی ہے۔ پرندے کو رکھنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس کے کھانے وغیرہ کا خصوصی اہتمام کرے۔ عسقلانى، فتح البارى، 10: 584، دار المعرفة بيروت تو جب پرندوں کو پالنا جائز ہے تو ان کا کاروبار بھی جائز ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ضروری شرط یہ ہے کہ ان جانوروں کےحقوق کا خیال رکھا جائے اور ان کی حق تلفی نہ کی جائے، کیونکہ ان کو خوراک مہیا نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ایک عورت صرف اس لئے جہنم میں چلی گئی کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی، لیکن اسے نہ تو کھانا کھلایا اور نہ ہی اسے زمین میں کھلا چھوڑ دیا کہ وہ حشرات الارض سے پیٹ بھر لے۔ بخاری، الصحيح، كتاب بدء الخلق، رقم: 2 لہٰذا پرندے پالنے اور ان کے کاروبار کرنے کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: ان کے کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔ اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کو مانوس کیا جائے تاکہ ان کو قید کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر بالفرض قید کرنا بھی پڑے تو ان کی رہائش کا بہتر سے بہتر بندوبست کیا جائے، تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ ان پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے۔ بیمار ہونے کی صورت میں مکمل علاج معالجہ کیا جائے۔ تمام تر سہولیات کے باوجود اگر کسی شخص کی ملکیت میں کوئی پرندہ مر جائے تو وہ شخص گنہگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس نے پرندے پر کسی قسم کا ستم نہیں کیا تھا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات