بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2579 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پتنگ اڑانا، پیچ لڑانا،کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا وبیچنا سب ناجائز وگناہ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرنے والے کام ہیں ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : "کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیا (یعنی پتنگ اور) ڈور بیچنا بھی منع ہے”. اگلے صفحے پر آپ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : "کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) لوٹنا حرام, اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے, اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دیدے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرْف (یعنی استعمال ) کرلے اور خود مسکین ہو تو اپنے صَرْف (یعنی استعمال ) میں لائے, پھر جب معلوم ہوکہ فلاں مُسْلِم کی ہے اور وہ تَصَدُّق (یعنی صدقہ کرنے) یا اس مسکین کے اپنے صرف (یعنی استعمال) پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا (یعنی پتنگ) کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں” ۔ مزید لکھتے ہیں : "کنکیا (یعنی پتنگ ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ ہے ". (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 659,660 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) نوٹ: جہاں لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہو تو وہاں لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے پتنگ کو نہ پھاڑا جائے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ