دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2579
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,963
سوال (Question):
پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پتنگ اڑانا، پیچ لڑانا،کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا وبیچنا سب ناجائز وگناہ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرنے والے کام ہیں ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : “کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیا (یعنی پتنگ اور) ڈور بیچنا بھی منع ہے”. اگلے صفحے پر آپ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : “کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) لوٹنا حرام, اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے, اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دیدے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرْف (یعنی استعمال ) کرلے اور خود مسکین ہو تو اپنے صَرْف (یعنی استعمال ) میں لائے, پھر جب معلوم ہوکہ فلاں مُسْلِم کی ہے اور وہ تَصَدُّق (یعنی صدقہ کرنے) یا اس مسکین کے اپنے صرف (یعنی استعمال) پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا (یعنی پتنگ) کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں” ۔ مزید لکھتے ہیں : “کنکیا (یعنی پتنگ ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ ہے “. (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 659,660 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) نوٹ: جہاں لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہو تو وہاں لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے پتنگ کو نہ پھاڑا جائے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat