بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1698 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ٹائلس میں چہرہ نظر آئے تو بھی ان پر نماز پڑھنا اور انہیں مسجد میں لگانا جائز ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسے ٹائلس پر نماز پڑھنا جس پر چہرہ صاف صاف نظر آتا ہو کیسا ہے نماز ہوجائے گی یا نہیں اور ایسے ٹائلس کو مسجد میں لگا سکتے ہیں یا نہیں برائے کرم دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی محمد حسین رضوی فیضی گورڈیہ سدھارتھ نگر اُتر پردیش انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب ایسے ٹائیلس جن میں اپنی صورت نظر آئے ان کو مسجد میں لگانا اور ان پر نماز پڑھنا جائز ہے کہ وہ نظر آنے والی صورت عکس ہے تصویر نہیں پس یہ آئینہ کی طرح ہوگیا اور آئینہ نمازی کے سامنے ہو جس میں اس کی صورت نظر آئے تو بھی نماز ہوجائے گی ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں : ” سُئِلتُ عَمَّن صَلَّی وَاَمَامَہُ مِرْآۃ فَاَجَبتُ بِالجَوازِ آخِذاً مِمَّا ھَاھُنَا , اِذِ المِرآۃُ لَم تُعبَد وَلاَ الشِّبحُ المُنطَبَعُ فِیھَا , وَلاَ ھُوَ مِن صَنِیعِ الْکُفَّارِ , نَعَم اِن کَانَ بِحَیْثُ یَبدُو لَہ فِیہ صُورَتُہ واَفعالُہ رُکُوعاً وسُجُوداً وقیاماً وقعوداً وَظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ یَشغُلُہ وَیَلھٰی فَاِذنُُ لاَیَنبَغِی قَطعاً ” اھ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 3 صفحہ 416 مکتبۃ المدینہ کراچی) یعنی مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے شیشہ کے سامنے نماز پڑھي تو میں نے نماز کے درست ہونے کا حکم دیا یہاں (یعنی انڈیا) کے اعتبار سے کیونکہ یہاں شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ ہی شیشے میں ڈھالی گئی صورت ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے ۔ ہاں اگر شیشہ میں اس کی صورت اس کے افعال رکوع سجود قیام قعود وغیرہ ظاہر ہوں جن کے باعث نماز سے غافل ہوجانے کا گمان ہو تو قطعا اس کی اجازت دینا مناسب نہیں. صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : "آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں, کہ سببِ کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے۔ اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہے نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرہ پر آتے ہیں گویا یہ شخص خود اپنے کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو ” اھ (فتاوی امجدیہ جلد 1 صفحہ 184 کتاب الصلاۃ ، باب مفسدات الصلاۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ