لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ زید کا انتقال ہوگیا اس کے وارثین یہ ہیں دو بیویاں پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے ان سب میں زید کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟ المستفتیہ: فرزانہ شیخ ادریسی کرناٹک ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب -بعون الملک الوھاب- صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ماتقدم و انحصار ورثہ فی المذکورین کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کے ١٧٦ حصے کریں گے پھر اس میں سے گیارہ گیارہ حصے بیویوں کو اور چودہ چودہ حصے بیٹیوں کو اور اٹھائیس اٹھائیس حصے بیٹوں کو دیں گے۔ قرآن پاک میں ہے: "فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ” (سورۃ النساء: ١٢) ترجمہ: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا (یعنی تمہاری بیویوں کا) تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (کنز الایمان) اور آیت نمبر ١١ میں ہے: یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ  اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ (سورۃ النساء: ١١) ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (کنزالایمان) سراجي میں ہے: "ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن” اھ (ص٢١، باب معرفۃ الفروض و مستحقیھا ، فصل فی النساء ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) بیٹی بیٹے کے ساتھ ہو تو "بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے” اور بیٹا بیٹیوں کو عصبہ بنادیتا ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی ٢٩ ربیع الغوث ١٤٤٥ھ مطابق ١٤ نومبر ٢٠٢٣ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات