بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-539 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ زید کا انتقال ہوگیا اس کے وارثین یہ ہیں دو بیویاں پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے ان سب میں زید کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟ المستفتیہ: فرزانہ شیخ ادریسی کرناٹک ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب -بعون الملک الوھاب- صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ماتقدم و انحصار ورثہ فی المذکورین کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کے ١٧٦ حصے کریں گے پھر اس میں سے گیارہ گیارہ حصے بیویوں کو اور چودہ چودہ حصے بیٹیوں کو اور اٹھائیس اٹھائیس حصے بیٹوں کو دیں گے۔ قرآن پاک میں ہے: "فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ” (سورۃ النساء: ١٢) ترجمہ: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا (یعنی تمہاری بیویوں کا) تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (کنز الایمان) اور آیت نمبر ١١ میں ہے: یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ (سورۃ النساء: ١١) ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (کنزالایمان) سراجي میں ہے: "ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن” اھ (ص٢١، باب معرفۃ الفروض و مستحقیھا ، فصل فی النساء ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) بیٹی بیٹے کے ساتھ ہو تو "بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے” اور بیٹا بیٹیوں کو عصبہ بنادیتا ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی ٢٩ ربیع الغوث ١٤٤٥ھ مطابق ١٤ نومبر ٢٠٢٣ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ