لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں

نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں؟ بارات جانے اور آنے میں دو دن کا سفر درکار ہے اور آنے کے تین دن کے بعد کرنا چاہتے ہیں آپ رہنمائی فرمائیں؟ سائل : قاری سرفراز پیپل گاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب نکاح اور رخصتی کے بعد جب شب زفاف گذرجائے تو ولیمہ کردیا جائے، اور اگر کسی وجہ سے دوسرے دن ولیمہ نہ کیا جاسکے تو تیسرے دن بھی کرسکتے ہیں : البتہ شب زفاف کے بعد ولیمہ میں زیادہ تاخیر نہ کی جائے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے ولیمہ ثابت ہے. آپ نے جتنے نکاح کیے ان کے بعد ولیمہ کیا اور صحابۂ کرام کو بھی ان کے نکاح کے بعد ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا تو آپ ﷺنے رشاد فرمایا: أولِم وَ لَو بِشَاۃٍ (بخاری:3781، مسلم:1427) ’’ ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ اسی لیے ولیمہ کو مسنون یا مستحب کہا گیا ہے۔ ولیمہ کا لغوی معنیٰ ہے ’اجتماع‘، یعنی میاں بیوی کا جمع ہونا۔ اس لحاظ سے ولیمہ کا صحیح وقت بیوی کی رخصتی اور شبِ زفاف، یعنی میاں بیوی کی ملاقات کے بعد کا ہے۔ بہتر ہے کہ شبِ زفاف کے اگلے دن ولیمہ کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے اگلے دن ولیمہ کیا تھا ۔ (بخاری:5466) ولیمہ ایک سے زائد بار یا ایک سے زائد دن کیا جاسکتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے بعد تین دن تک برابر آپ نے ولیمہ کیا تھا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات