لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نو مولود بچہ کے کان میں کب اذان کہی جاے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نو مولود بچہ کے کان میں کب اذان کہی جاے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماے کرام مسئلہ ذیل میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کے کان میں کب اذان دینا چاہئے؟

المستفتی:حافظ عبد المالک رضا یاقوت گنج فرخ آباد یوپی

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بچہ پیدا ہونے کے بعد فورا داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہنا چاہئے اور اگر فورا نہ کہ سکیں تو جتنی جلدی ممکن ہو اذان و تکبیر کہیں۔

فتاوی رضویہ میں ہے "جب بچہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے”

(ج٢٤،ص٤٥٣)

بہار شریعت میں ہے "جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاء ﷲ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں  تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔

(ج١٥،ص٣٥٥)

واللہ تعالی اعلم

  مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٢٣ اکتوبر ٢٠٢١

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات