بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2777 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نوکری سے محروم شخص کوزکوٰۃ دینا
صورت مسئلہ: (۱)کچھ لوگ نوکری کرتے ہیں اورنوکری چھوٹ گئی اورتنگی آگئی توان لوگوںکے بارے میں زکوٰۃ لینے دینے میں کیامسئلہ ہے ؟ (۲)زکوۃ کی رقم پرٹیکس ریلبٹ (چھوٹ )ہے؟کیو ںکہ کوئی صاحب نے آپ کے مدرسے کی رسیددی تھی اس میں کچھ رجسٹریشن تھا لیکن ٹیکس ریلبیٹ کے لیے ٹین یاپین نمبرہوناضروری ہے۔ (۳)زکوٰۃ کاپیسہ آن لائن دیناکیساہے ؟آج کل بہت سے ادارے آن لائن کے لیے اپیل کرتے ہیں جنہیں بس انٹریسٹ کے تھروجاناجاتاہے۔ (۴)شیئرمارکیٹ میں پیسہ لگاناکیسا؟اگرلگاسکتے ہیں تولگے پیسے پرزکوٰۃ دیناپڑے گی یانہیں؟کیو ںکہ مارکیٹ کاکوئی بھروسہ نہیں ،بس امیدرہتی ہے ۔ المستفتی:محمدخورشیدعالم(بذریعہ ای میل) حکم شرعی: نوکری سے محروم شخص کوزکوٰۃ دینا (۱)نوکری چھوٹ جانے کے بعداگروہ مالک نصاب نہ رہے ، فقیرومحتاج ہوگئے توانہیں زکوٰۃ دیناجائزہے ۔ البتہ انہیں زکوٰۃ مانگنا جائز نہیں ۔جوشخص ۵۶روپے بھرچاندی یازیور یا اتنی چاندی کے دام کے مالک ہوں وہ مالک نصاب ہیں ،دام سے مرادواجبی قیمت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۲)زکوٰۃ توپوری اداکی جاتی ہے البتہ اس کی وجہ سے انکم ٹیکس میں چھوٹ ہوجاتی ہے ،یہ جائزہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ (۳)جس ادارے کے بارے میں آپ کوبخوبی تحقیق ہوکہ وہ اہل سنت وجماعت کامدرسہ ہے ،اس کےکھاتے میں روپے آن لائن اس شرط کے ساتھ بھیج دیں کہ وہ روپے نکال کرپہلے حیلۂ شرعی کریں اس کے بعدخرچ کریں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ (۴) شیئرمارکیٹ میں روپے لگاناجائزنہیںمگرجب تک وہ روپے یاان کے مقابل متاع موجودہے ،اس پراپنے شرائط کے ساتھ زکوٰۃ فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ