صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2160 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,048

سوال (Question):

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

سوال : زید بھارت اور نیپال کے بارڈر پر رہتا ہے اور زید جانبین سے تجارت کرتا ہے اور جب نیپالی روپیہ کو انڈین کراتا ہے تو حکومت نے نیپال ١٥ پیسہ بڑا سود لیتی ہے ۔آیا زید اس کو سود دے یا نہ دے ؟ اور اگر کوئی نیپالی انڈیا میں نیپالی روپیہ بھنائے تو کیا نیپالی سے سود لےیا نہ لے ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر سوال کا منشا یہ ہے کہ بھارت اور نیپال نے نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم پر بیچنا جائز ہے یا نہیں تو نوٹ چونکہ ثمن اصطلاحی ہے یعنی نوٹ کا کسی مقدار کے ساتھ مقدر ہونا لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے ۔ بائع اور مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں اس لیے بلاشبہ ایسا کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “کفل الفقیہ الفاھم” میں تحریر فرماتے ہیں : بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا۔ یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوجائیں اس کا بیچنا جائز ہے۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔ کتبـــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat