دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #342
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں زکوٰۃ کی رقم لگانا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
12,516
سوال (Question):
کیا زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کی دیوار بنوا سکتے ہیں یا مدرسے کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے کسی مستحق انسان کو مال کا مالک بنانا (تملیک) شرط ہے۔ چونکہ مسجد یا مدرسے کی عمارت انسان نہیں، اس لیے زکوٰۃ کی رقم براہِ راست تعمیرات، سڑک، یا ہسپتال بنانے میں لگانا ناجائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ اس کے لیے عطیات اور نفلی صدقات استعمال کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat