دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1614
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,973
سوال (Question):
نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ المستفتی:- حافظ محمد اشرف نقشبندی خادم التدریس دار العلوم نعیمیہ نعیمی جامع مسجد عمر کالونی کونیاں پونچھ جموں وکشمیر . باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب نماز کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے اور بہتر درود اہراہیمی ہے لیکن اگرکوئی شخص مذکورہ درود شریف کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھتا ہے تو اس سے بھی سنت ادا ہوجائے گی البتہ نماز بہر صورت درست ہوگی- تفسیرات احمدیہ میں ہے”نماز میں قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد صلاة پڑھنا سنت ہے . (ص ۸۴۵ مترجم) بہار شریعت میں ہے” بعد تشہد دوسرے قعدہ میں درود شریف پڑھنا(سنت ہے)اور افضل وہ درود ہے،جو پہلے مذکور ہوا، یعنی درود ابراہیمی”(ج ۱ ح ۳ ص ۵۳۱/مکتبة المدينه دعوت اسلامی) فتاوی رضویہ میں ہے”سب درودوں سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں مقرر کیا گیا ہے”(ج ۳ ص ۶۲/ناشر:رضا اکیڈمی بمبئ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۵/شعبان المعظم ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۹/مارچ ۲۰۲۲ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat