صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #437 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

جسم پر گودھے ہوئے ٹیٹو (Tattoo) کے ساتھ وضو اور غسل کا حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 4,886

سوال (Question):

جسم پر ٹیٹو (Tattoo) بنوانا کیسا ہے، اور کیا اس کے ساتھ غسل ہو جاتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سوئی چھو کر جسم پر رنگ بھرنا (Tattooing) قطعی حرام ہے اور حدیث میں اس پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ البتہ چونکہ ٹیٹو کا رنگ جلد کے اندر (نیچے) چلا جاتا ہے اور جلد کے اوپر کوئی تہہ (layer) نہیں بناتا جو پانی کو روکے، اس لیے اس شخص کا وضو اور غسل ہو جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو اور نقصان نہ ہو تو اسے لیزر سے مٹوانا لازم ہے، وگرنہ توبہ کرے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat