دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1418
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نماز میں آنے والے وسوسوں سے کس طرح محفوظ رہا جاے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,526
سوال (Question):
نماز میں آنے والے وسوسوں سے کس طرح محفوظ رہا جاے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نماز میں آنے والے وسوسوں سے کس طرح محفوظ رہا جاے؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ نماز میں آنے والے وسوسوں سے کس طرح محفوظ رہا جاے؟ شرعی رہنمائی فرما دیں! جزاک اللّٰہ خیرا و احسن الجزاء فی الدنیا و الآخرۃ! سائلہ: ماریہ گروپ شرعی مسائل برائے خواتین لاہور پاکستان الجوابـــــــــــ نماز میں آنے والے وسوسے سے نماز میں کوئی قباحت نہیں کیوں کہ صرف خیالات آنے سے انسان گنہگار نہیں ہوتا، وسوسے اور خیالات اس وقت تک معاف ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے ، نماز میں وسوسہ آجائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اس کی طرف التفات نہ کیا جائے، اور اللہ کی عظمت اور جلال کا تصور کرتے ہوئے نماز پوری کرلی جائے اور یہ تصور کیا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے ﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۔ صاحب مرآت رحمت اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یوں تو ہر وقت ہی سمجھو کہ رب تمہیں دیکھ رہا ہے مگر عبادت کی حالت میں تو خاص طور پر خیال رکھو،تو ان شاء ﷲ عبادت آسان ہوگی،دل میں حضور وعاجزی پیدا ہوگی،آنکھوں میں آنسو آئیں گے،اﷲ ہم سب کو نصیب کرے۔آمین (المرأة ج ١ص ١مكتبة المدينة) اور ہر رکن کے آداب کی رعایت رکھے ، اور وسوسہ کی طرف دھیان نہ دے ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ علیہ سے ایک شخص نے عرض کیا: مجھے اپنی نماز میں وہم ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے مجھے بہت گرانی ہوتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: (تم اس طرح کے خیال پر دھیان نہ دو اور) اپنی نماز پوری کرو، اس لیے وہ شیطان تم سے جب ہی دور ہوگا کہ تم اپنی نماز پوری کرلو، اور کہو کہ ہاں میں نے اپنی نماز پوری نہیں کی یعنی اس وسوسہ کے باوجود نماز پوری کرلو اور شیطان کے کہنے میں نہ آؤ۔ حدیث پاک میں ہے وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ؟ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد: امْضِ فِي صَلَاتك؛ فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ: مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي». رَوَاهُ مَالك‘‘ مشكاة المصابيح (1/ 29) والله و رسوله أعلم بالصواب كتبه/محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat