بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2169 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نقد اور ادھار موبائل کی الگ الگ قیمت رکھنا
الجوابــــــــــــــــ نقد موبائل کی قیمت مثلا ایک ہزار رکھنا اور ادھار موبائل کی قیمت 1100 رکھنا جائز ہے اور اس طرح موبائل کی خرید و فروخت درست ہے ۔ یہ سود نہیں ، البتہ ایک ہزار روپے میں موبائل فروخت کر دیا اور قیمت ملنے میں ایک ہفتہ دیر ہوگئی تو گراہک سے سو روپے زیادہ لینا یہ سود ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کی موبائل نقد اور ادھار الگ الگ قیمتوں میں بیچنا جائز ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ” ادھار بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا۔” مفتی محمد جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فورا ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ سامان کی قیمت لے ۔ یہ شریعت میں جائز ہے، سود نہیں۔ نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے ہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی طے کر دے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خرید تو اتنی ہے۔یہ جائز نہیں کہ تین سو روپے میں فروخت کر دیا ۔ اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے، ایسا کرے گا تو سود ہوگا۔ کتبـــــــہ : علامہ طفیل احمد مصباحی ۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ