دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1843
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,883
سوال (Question):
نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــ نجس کپڑا پہن کر غسل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پانی پڑنے کے بعد نجاست پھیل جائے گی بلکہ ہاتھ میں لگ جائے گی پھر بے احتیاطی سے سارا بدن بلکہ برتن بھی نجس ہو جائے گا. لہذا پاک کپڑا ہی پہن کر غسل کرنا چاہیے. اگر کوئی دوسرا پاک کپڑا موجود نہ ہو تو پہلے اس کی نجاست دور کرلے. اگر تر نجاست والے کپڑے کو پہن کر پانی کے باہر غسل کیا اور خوب پانی ڈالا تو اب وہ کپڑا پاک ہو گیا. کیونکہ زیادہ پانی ڈالنا تین بار دھونے اور نچوڑنے کے قائم مقام ہو جائے گا. اور اگر تالاب یا ندی میں خوب غسل کرے تو بھی پاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے بار بار گزرنے اور دباؤ پڑنے سے بھی نجاست دور ہو جائے گی. شامی جلد اول صفحہ 222 میں ہے” الجریان بمنزلۃ التکرار والعصر ھو الصحيح. سراج. ١ھ. اور اگر نجاست خشک ہے تو اسے رگڑنا ضروری ہے کیونکہ بغیر رگڑے ایسی نجاست کا زوال مشکل ہے محض مرور ماء یا بار بار دباؤ کافی نہیں. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد خورشید احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat