صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #79 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

نابالغ بچے کی جائیداد یا پیسوں پر زکوٰۃ

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 10,854

سوال (Question):

میرے نابالغ بیٹے کے نام پر 15 لاکھ روپے بینک میں ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے ‘عاقل اور بالغ’ ہونا شرط ہے۔ اس لیے نابالغ بچے کے نام پر کتنی ہی جائیداد، سونا یا کیش موجود ہو، اس پر شرعاً زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب بچہ بالغ ہو گا، اس وقت سے اس کی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat