لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟

سوال : بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس کی گود میں تین ماہ کی لڑکی بھی تھی. بیوی اپنے میکے میں گزر کر رہی ہے. لڑکی تقریباً سات سال کی ہوگئ تو کیا اس لڑکی کا نکاح کرنے میں بکر سے اجازت ضروری ہے؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ جب تک لڑکی نابالغ ہے اس کا نکاح کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری ہے . اور بالغ ہونے کے بعد کفؤ کے ساتھ شادی کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری نہیں. وھو سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ٦٧٩

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات