طلاق کے واقع ہونے کے لیے زبانی بولنا شرط نہیں، تحریری طلاق بھی شرعاً معتبر ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میسج شوہر ہی نے اپنے ارادے سے ٹائپ کر کے سینڈ کیا ہے اور الفاظ صریح ہیں (جیسے میں تجھے طلاق دیتا ہوں)، تو میسج سینڈ کرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی، خواہ بیوی نے میسج پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-446 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ
متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
حضرت مفتی صاحب قبلہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ زید نے اپنی بیوی کو ان الفاظ میں طلاق دی کہ...
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
ضرت مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ہندہ کا عقد زید سے ہوا تھا کچھ دنوں تک دونوں کے درمیان معاملہ ٹھیک رہا،پھر ان...
ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کا حکم
اگر غصے میں ایک ہی سانس یا ایک ہی میسج میں 3 بار 'طلاق طلاق طلاق' کہہ دیا تو کیا ہو گا؟