دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2343
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
میری موت کے بعد تم غسل نہیں دے سکتے ایسا کہنا کہاں تک درست ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,993
سوال (Question):
میری موت کے بعد تم غسل نہیں دے سکتے ایسا کہنا کہاں تک درست ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
میری موت کے بعد تم غسل نہیں دے سکتے ایسا کہنا کہاں تک درست ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں: زید بکر کا بھائی ہے۔ زید کی بیماری کے ایام میں بکر نے زید کی تیمارداری اور خدمت نہیں کیا۔ زید نے بیماری کی حالت میں عالم میں بکر کو کہا میری موت کے بعد تم مجھ کو غسل نہیں دے سکتے نہ میرے کفن کو چھو سکتے ہو۔ ایسا کہنا زید کا کہاں تک درست ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ aad مجھے غسل بھی نہیں دے سکتے ۔ کفن بھی نہیں چھو سکتے ۔ اس صورت میں تو یہ قول بے غبار ہے ۔ اور اگر اس کا مقصود ممانعت ہو، تو یہ غیر مناسب بات ہے،جو بتقاضائے بشری صادر ہو جاتی ہے،پھر اس طرح کی ممانعت زجر و توبیخ اور ڈانٹ، پھٹکار کے لیے ہوتی ہے جوبکرکے مذکورہ برتاؤ پر ہونی بھی چاہئے ۔ لیکن اس کے باوجود بکر پر شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں،وہ زید کی تجہیز و تکفین اور تدفین سب کچھ کرسکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat