لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

میری اہلیہ امید سے ہیں تو ایسی صورت میں کیا میں میت کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکتا ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

میری اہلیہ امید سے ہیں تو کیا ایسی صورت میں میں میت کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکتا ؟

حضرت مسئلہ یہکہ میری اہلیہ امید سے ہیں تو ایسی صورت میں کیا میں میت کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکتا کچھ لوگوں کا کہنا ہے ۔۔۔ جواب عنایت فرمادیں

الجواب

سب پہلے یہ معلوم ہو کہ اسلام میں بدشگونی وبدفالی کا کوئی تصور نہیں ہے کیوں کہ یہ زمانۂ جاہلیت کے ان باطل تصورات اورمن گھڑت اعتقادات سے ہے جن کی اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے صحیح بخاری شریف ج ٢ کتاب الطب میں حدیث شریف ہے ’’عن ابن عمران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا عدوی ولاطیرۃ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی کوئی چیز ہے ۔ جنازہ کوکندھادینا شریعت میں ایک متحسن ومسنون عمل ہے جس پر اجروثواب کی بشارت دی گئی ہے، اگر کسی شخص کی اہلیہ محترمہ امید سے ہیں اور انکے شوہر نے اگرجنازہ کوکندھادیا ہے تو یقینا انہوں نے ایک کارخیرکیا ہے اس کے عمل سے بدشگونی وبدفالی لینا سراسرغلطی ہے اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے، شریعت میں جنازہ کوکندھا دینے او راس کے پیچھے چلنے کے کثرت سے فضائل وارد ہیں صحیح بخاری شریف ج ١،کتاب الجنائز،باب من انتظرحتی یدفن ص ١٧٧میں ہے ’’ان اباہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شہدالجنازۃ حتی یصلی علیہ فلہ قیراط ومن شہد حتی یدفن کان لہ قیراطان۔ قیل وماالقیراطان قال مثل الجبلین العظیمین ‘‘ حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی نمازجنازہ میں حاضر ہو یہاں تک کہ وہ اس پر نمازپڑھ لے تو اس کے لئے ایک قیراط ہے او رجو تدفین تک حاضررہے تو اس کے لئے دوقیراط ہے، عرض کیا گیا دوقیراط کیا ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دوبڑے پہاڑوں کے برابر ، اجروثواب ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ از: محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی و صدر المدرسین دارالعلوم مرکز السنہ خلیل العلوم لکھنؤ یو پی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: احکام میت

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات