لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

میراث کا مسئلہ | ترکہ کا ایک مسئلہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

میراث کا مسئلہ | ترکہ کا ایک مسئلہ

سوال: ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں ۔ ہم نے ان کے انتقال کے بعد میراث تقسیم کردی تھی ۔ ایک درخت بچا تھا جوہمارے درمیان مشترکہ تھا اورسب لوگ اس کا پھل کھاتے تھے ۔ گزشتہ دنوں وہ سوکھ گیا ۔ ہم نے اسے فروخت کردیا ، جس سے ہمیں آٹھ ہزار روپے ملے ۔ ہماری والدہ زندہ ہیں ۔ ہم تین بھائی اورایک بہن ہیں۔ اس رقم کو کیسے تقسیم کریں؟ براہِ کرم رہ نمائی فر ما ئیں ۔ سائل : محمد عمران جالنہ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب کسی شخص کا انتقال ہوا اوروہ صاحبِ اولاد ہو اوراس کی بیوی بھی زندہ ہوتواس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی : (۱) بیوی کوآٹھواں حصہ ملے گا (النساء :۱۲) (۲)  بقیہ مال وراثت لڑکوں اورلڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا ۔ (النساء :۱۱) صورتِ مسئلہ میں آٹھ ہزار کا آٹھواں حصہ ایک ہزار روپے ہوئے ۔ یہ اپنی والدہ کودے دیجئے ۔ بقیہ سات ہزار روپے میں دو دو ہزار روپے تینوں بھائیوں میں تقسیم کرلیجئے اورایک ہزار روپے اپنی بہن کو دے دیجئے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات