لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی راج ولی مرحوم کے تین بیٹے ہیں (1) جمعہ (2) کالو (3) حسن دین جمعہ کے دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔کالو کی صرف تین بیٹیاں ہیں۔ حسن دین کے دو بیٹے ایک بیٹی ، راج ولی کے تینوں بیٹے انتقال کر چکے ہیں . دریافت طلب امر یہ ہے کہ راج ولی مرحوم کی جائیداد اولاد ذکورنہ ہونے کی صورت میں شرعا کیسے تقسیم ہوگی متعلقہ رشتہ داروں کی تفصیل بھی درج کر دی گئی ہے۔ المستفتی: محمد یونس ولد غلام حسین ساکن کالا بن تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ۔  الجواب بعون الملك الوهاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین راج ولی مرحوم کی جائداد کے کل ۱۴ حصے کئے جائیں، ۸ حصے چاروں پوتوں کو دیں ہر ایک کو دو دو اور ۶ حصے چھ پوتیوں کو ہر ایک کو ایک ایک- سراجی میں ہے "الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعنى أولادهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وان سفلوا”(السراجى فى الميراث/باب العصبات/ ص ۳۶/مکتبة البشرى،کراچی،پاکستان) نیز اسی میں ہے”ولا يرثن مع الصلبيتين الا أن يكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فيعصبهن والباقى بينهم للذكر مثل حظ الأنثين”(السراجی فی المیراث/أحوال بنات الابن/ص ۲۰) یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب دادا کا کوئی بیٹا،بیٹی یا دادی موجود نہ ہو ورنہ تقسیم الگ ہوگی-واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات