صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2421 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

میت کو تلقین کرنے کی فضیلت اور طریقہ؟از عدیل احمد قادری علیمی مصباحی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 11,149

سوال (Question):

میت کو تلقین کرنے کی فضیلت اور طریقہ؟از عدیل احمد قادری علیمی مصباحی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

میت کو تلقین کرنے کی فضیلت اور طریقہ؟

السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ حضرت تلقین کی فضیلت اور اس کے الفاظ اور ان کا طریقہ کیا ہے. حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟ سائل :امجد علی السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ ۔ حضرت تلقین کی فضیلت اور اس کے الفاظ اور ان کا طریقہ کیا ہے ۔ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟ وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابـــــــــــــــــــــــــــ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : جس کا آخر کلام  لَا اِلٰـہِ اِلَّا اللہ  ہوا یعنی کلمہ طیبہ وہ جنت میں  داخل ہوا ۔ (سنن أبي داود، کتاب الجنائز، باب في التلقین، الحدیث: ۳۱۱۶، ج۳، ص۲۵۵۔) جان کنی کی حالت میں  جب تک روح گلے کو نہ آئی اسے تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے پڑھیں   اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ مگر اسے اس کے کہنے کا حکم نہ کریں ۔ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کر دیں ، ہاں  اگرکلمہ پڑھنے کے بعد اس نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں  کہ اس کا آخر کلام  لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ہو۔ ہندیہ میں ہے: “وَلُقِّنَ الشَّهَادَتَيْنِ، وَصُورَةُ التَّلْقِينِ أَنْ يُقَالَ عِنْدَهُ فِي حَالَةِ النَّزْعِ قَبْلَ الْغَرْغَرَةِ جَهْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَلَا يُقَالُ لَهُ قُلْ وَلَا يُلَحُّ عَلَيْهِ فِي قَوْلِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَضْجَرَ فَإِذَا قَالَهَا مَرَّةً لَا يُعِيدُهَا عَلَيْهِ الْمُلَقِّنُ إلَّا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ غَيْرِهَا، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ” ۔ ( کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷) نوٹ: تفصیل بہار شریعت وغیرہاکتب فتاوی میں دیکھیں ۔ کتبــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی                   26/نومبر،2021بروزجمعہ.                     📲+263780498811

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat