صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1973 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مہر نہ دیا اور بیوی انتقال کر گئی تو مہر کس کو دے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,255

سوال (Question):

مہر نہ دیا اور بیوی انتقال کر گئی تو مہر کس کو دے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مہر نہ دیا اور بیوی انتقال کر گئی تو مہر کس کو دے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اور زید نے ابھی تک مہر بھی ادا نہیں کیا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مہر کس کو دیں حالانکہ ان کے کوئی اولاد بھی نہیں ہے مگر زید کی متوفیہ بیوی کی ماں اور تین بھائی، ایک بہن تیرہ بھتیجا اور تین بھتیجی موجود ہیں . مفصل بیان فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں المستفتی:محمد کلام الدین دوگھر بھیڑی . ہاری پٹی کشی نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں مہر شوہر کے ذمہ دین اور وارثوں کا حق ہے لہذا اگر زید کی بیوی کے پاس مہر کے سوا اور کوئی جائداد نہیں ہے تو بعد تقدیم ما تقدم وعدم موانع إرث کل مہر کے بیالیس حصے کیے جائیں جن میں زید آدھا خود رکھ لے اور سات حصے ماں کودے دے اور بطور عصوبت للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت چار چار حصے تینوں بھائیوں کو اور دو حصے بہن کو دے دے. بھتیجا اور بھتیجی محروم ہونگے انہیں کچھ نہ ملے گا. سراجی میں ہے“انما الزوج فحالتان النصف عند عدم الولد وولد الابن وان سفل” اھ(ص١١، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا) اسی میں ہے”وللام ثلث الکل عند عدم ھٰؤلاء المذکورین فلھا ثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذالک فی مسئلتین زوج وابوین او زوجۃ وابوین” اھ(ص١٨،فصل فی النساء) اسی میں ہے” اما للاخوات لاب وأم مع الأخ لاب وأم للذكر مثل حظ الانثيين یصرن عصبۃ بہ لاستوائھم فی القرابۃ الی المیت”اھ (ص١٥، فصل فی النساء،مکتبہ امام احمد رضا) اسی میں ہے” الحجب علی نوعین حجب نقصان.الخ، وحجب حرمان والورثۃ فیہ فریقان فریق لایحجبون بحال البتۃ..الخ، و فریق یرثون بحال ویحجبون بحال وھذا مبنی علی اصلین.الخ، الثانی الأقرب فالاقرب کما ذکرنا فی العصبات” اھ(ص٢٧،باب الحجب، مکتبہ أمام احمد رضا) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبـــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٢٥جمادی الثانی ١٤٤٣ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat