صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #353 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کمیشن ایجنٹ کا کام اور اس کی اجرت کی شرعی حیثیت

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 7,677

سوال (Question):

پراپرٹی ڈیلر یا کمیشن ایجنٹ بن کر دو پارٹیوں کے درمیان سودا کروا کر اپنا کمیشن لینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جی ہاں، کمیشن ایجنٹ یا بروکر کا کام شریعت میں ‘دلالت’ (دلالی) کہلاتا ہے۔ اگر وہ فریقین کو کوئی دھوکہ نہ دے اور سودا طے کرانے کی پہلے سے ایک مقررہ فیس یا فیصد (Percentage) طے کر لے تو اس کی یہ محنت اور اس پر ملنے والا کمیشن بالکل حلال ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat