لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مکبر ہونے کے لئے اجازت امام کی حاجت نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مکبر ہونے کے لئے اجازت امام کی حاجت نہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

امام نے کسی کو مکبر بنایا لیکن کسی دوسرے نے تکبیر کہ دیا تو نماز ہوگی یانہیں؟

سائل:محمد اقبال حسین

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نماز ہوجاے گی کہ ضرورت کے موقع پر تبلیغ جائز ہے اگرچہ امام نے اجازت نہ دی ہو بلکہ منع بھی کیا ہو تب بھی جائز ہے البتہ بلا ضرورت مکروہ ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے "ھذا باطل لااصل لہ ویجوز التبلیغ عن الحاجۃ وان لم یاذن الامام بل وان نھی”

یہ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ضرورت کے موقع پر تبلیغ جائز ہے اگرچہ امام اجازت نہ دے بلکہ وہ منع بھی کردے تب بھی جائز ہے ۔

(ج٥، ص٤١٩)۔

ردالمحتار میں ہے "ﻭﻓﻲ ﺣﺎﺷﻴﺔ ﺃﺑﻲ اﻟﺴﻌﻮﺩ ﻭاﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻟﺘﺒﻠﻴﻎ ﻋﻨﺪ ﻋﺪﻡ اﻟﺤﺎﺟﺔ ﺇﻟﻴﻪ ﺑﺄﻥ ﺑﻠﻐﻬﻢ ﺻﻮﺕ اﻹﻣﺎﻡ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻭﻓﻲ اﻟﺴﻴﺮﺓ اﻟﺤﻠﺒﻴﺔ اﺗﻔﻖ اﻷﺋﻤﺔ اﻷﺭﺑﻌﺔ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﺘﺒﻠﻴﻎ ﺣﻴﻨﺌﺬ ﺑﺪﻋﺔ ﻣﻨﻜﺮﺓ ﺃﻱ ﻣﻜﺮﻭﻫﺔ ﻭﺃﻣﺎ ﻋﻨﺪ اﻻﺣﺘﻴﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻤﺴﺘﺤﺐ”

(ج٢،ص٢١٠)

بہار شریعت میں ہے”اگر امام کی تکبیر کی آوازسب مقتدیوں کو نہیں پہنچتی تو بہتر ہے کوٸی مقتدی بھی بلند آواز سے تکبیر کہے کہ نماز شروع ہونے اور انتقالات کا حال سب کو معلوم ہوجاے اور بلا ضرورت مکروہ وبدعت ہے“

(ج٣،ص٥٢١)

واللہ تعالی اعلم

 مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٢٢ اگست ٢٠١٨

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات