دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1909
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,993
سوال (Question):
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے “عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے“عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح” اھ(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے” ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار” اھ(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat