لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

موبائل کے سلام کا جواب واجب ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

موبائل کے سلام کا جواب واجب ہے یا نہیں؟

سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا واجب ہے ۔ تو جس طرح بالمشافہہ ملاقات میں کلام کا جواب واجب اور خط میں لکھے ہوئے سلام کا جواب واجب ہے اسی طرح موبائل کے ذریعے کیے ہوئے سلام کا جواب بھی واجب ہے۔ در مختار میں ہے: ” ویجب رد جواب کتاب التحیۃ کرد السلام” اس کے تحت فتاویٰ شامی میں ہے : ” لان الکتاب من الغائب بمنزلۃ الخطاب من الحاضر والناس عنہ غافلون " ترجمہ : خط و کتابت کے ذریعے کیے ہوئے سلام کا جواب دینا واجب ہے ۔ کیونکہ غائب کا خط حاضر کے خطاب کے درجے میں ہے اور لوگ اس حقیقت سے غافل ہیں۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ” خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب واجب ہے” اوپر بیان ہوا کہ موبائل سلام و کلام اور پیغام رسانی میں خط و کتابت سے بڑھ کر ہے اور بالمشافہ ملاقات کرنے سے قریب تر ہے۔ جب خط میں لکھے ہوئے سلام کا جواب واجب ہے تو موبائل کی کال جو خط و کتابت سے بڑھ کر ہے، اس کے سلام کا جواب بھی بدرجہ اولیٰ واجب ہوگا۔ لہذا موبائل پر کیے گئے سلام کا جواب ضرور دیں ، ورنہ ترک واجب کے سب گنہگار ہوں گے۔ عام ملاقات میں حکم یہ ہے کہ سلام اتنی آواز سے کرے کہ جس کو سلام کیا ہے وہ سلام سن لے اور سلام کے جواب میں بھی اتنی آواز ہوں کہ سلام کرنے والا جواب سن لے۔ یہی حکم موبائل کے ذریعہ سلام اور جواب اسلام کا بھی ہے کہ موبائل سے سلام کرنے والا اتنی بلند آواز سے سلام کرے کہ دوسری جانب کال ریسیو (receive) کرنے والا سلام سن لے، اور کال ریسیو کرنے والا اتنی بلند آواز سے جواب دے کہ دوسری جانب موبائل سے سلام کرنے والا سلام کا جواب سن لے ۔ کیوں کہ سلام کرنے والے کو اس کے سلام کا جواب سنانا ضروری ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” لا يسقط فرض جواب السلام الا بالاسماع كما لا يجب ( جواب السلام )الا بالاسماع .” سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے ، بلا عذر تاخیر کی تو وہ گنہگار ہوا اور یہ گناہ جواب دینے سے دفع نہ ہوگا بلکہ توبہ کرنی ہوگی۔ لہٰذا موبائل کے سلام کا جواب بھی فوراً واجب ہے۔ تاخیر کے باعث گناہ ہوگا ۔ فتاویٰ شامی میں ہے کہ: ” سلام کرنے میں نیت یہ ہو کہ جس کو سلام کیا گیا ہے، اس کی عزت و آبرو اور مال و عیال کی حفاظت ہو۔ بندگی عرض اور آداب عرض جیسے الفاظ سے سلام کرنا منع ہے کیوں کہ یہ طریقۂ سنت کے خلاف ہے۔ ہاں! تسلیم عرض یا تسلیمات عرض ، سلام کے طور پر بول سکتے ہیں کہ یہ سلام کے معنی میں ہے ۔ ماخوذ : از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات