لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

موبائل پر السلام علیکم کے بجائے ہیلو / ہائے کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

موبائل پر السلام علیکم کے بجائے ہیلو / ہائے کہنا کیسا ہے ؟

فیشن پرستی اور مغربی تہذیب نے ہمارے کردار کے ساتھ ہماری رفتار و گفتار تک کو ملیا میٹ کردیا ۔ آج کال موبائل پر رابطہ کے وقت پہلا لفظ جو سننے کو ملتا ہے وہ ہیلو (Hello) ہے ۔ پتہ نہیں یہ ہیلو انگریزی ہوم (گھر) سے آیا ہے یا پھر ہیل ( جہنم , Hell) سے ٹپک پڑا ہے۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ موبائل پر ہیلو کہنے کے بجائے ” السلام علیکم” کہا جائے ۔ موبائل پر سلام سے پہلے ہیلو کرنا اسلامی شعار کے خلاف ہے۔ انگریزی میں ہیلو کا لفظ کسی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی کو بلانے کے لیے کہتے ہیں۔ بھائی صاحب سنیے ! ہیلو ، ہیلو یعنی ادھر دیکھیے اور میری طرف توجہ دیجیے۔ اگر موبائل پر بولنے کا مقصد یہی ہے تو اس لفظ کے بجائے "السلام علیکم ” کہنا زیادہ بہتر ہے ۔ کیوں کہ السلام علیکم کہنے سے اسلامی شعار پر عمل بھی ہو جاتا ہے اور مخاطب کی توجہ اپنی جانب مبذول بھی ہو جاتی ہے ۔ لہذا موبائل پر ہیلو ، ہیلو نہ کہیں ، کیوں کہ یہ انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ صحیح اسلامی طریقہ ” السلام علیکم ” ہے ۔ یہی طریقہ اپنائیں۔ اسی طرح گڈ مارننگ (Good morning) اور گڈ نائٹ (Good night) کہنے کے بجائے ہمیشہ” السلام علیکم ” ہی بولیں ۔ السلام علیکم میں جو جامعیت اور دینی واخروی فائدہ ہے ، وہ گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ بولنے میں نہیں ہے ۔ عصری تعلیم یافتہ مسلم طبقہ جو اپنے آپ کو سیکولر اور مارڈن خیال کرتا ہے یہ لوگ موبائل پر بات کرتے ہوئے آخر میں کہتے ہیں اوکے (Ok) تھینکس (Thanks) مسلمانوں کو اس قسم کے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مذہب اسلام انگریزی یا کسی دوسری زبان بولنے سے منع نہیں کرتا ۔ اس قسم کے الفاظ بولنے سے اس لئے گریز اور پرہیز کرنا چاہیے صرف ان الفاظ کا تعلق انگریزی زبان سے زیادہ انگریزی تہذیب اور مغربی تمدن سے ہے۔ حدیث پاک: من تشبه بقوم فهو منهم: سے اغیار کی زبان نہیں ، بلکہ اغیارکے تہذیب و تمدن اور ان کے طور طریقے مراد ہیں۔ ماخوذ : از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات