دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2072
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
موبائل پر السلام علیکم کے بجائے ہیلو / ہائے کہنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,391
سوال (Question):
موبائل پر السلام علیکم کے بجائے ہیلو / ہائے کہنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
موبائل پر السلام علیکم کے بجائے ہیلو / ہائے کہنا کیسا ہے ؟
فیشن پرستی اور مغربی تہذیب نے ہمارے کردار کے ساتھ ہماری رفتار و گفتار تک کو ملیا میٹ کردیا ۔ آج کال موبائل پر رابطہ کے وقت پہلا لفظ جو سننے کو ملتا ہے وہ ہیلو (Hello) ہے ۔ پتہ نہیں یہ ہیلو انگریزی ہوم (گھر) سے آیا ہے یا پھر ہیل ( جہنم , Hell) سے ٹپک پڑا ہے۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ موبائل پر ہیلو کہنے کے بجائے ” السلام علیکم” کہا جائے ۔ موبائل پر سلام سے پہلے ہیلو کرنا اسلامی شعار کے خلاف ہے۔ انگریزی میں ہیلو کا لفظ کسی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی کو بلانے کے لیے کہتے ہیں۔ بھائی صاحب سنیے ! ہیلو ، ہیلو یعنی ادھر دیکھیے اور میری طرف توجہ دیجیے۔ اگر موبائل پر بولنے کا مقصد یہی ہے تو اس لفظ کے بجائے “السلام علیکم ” کہنا زیادہ بہتر ہے ۔ کیوں کہ السلام علیکم کہنے سے اسلامی شعار پر عمل بھی ہو جاتا ہے اور مخاطب کی توجہ اپنی جانب مبذول بھی ہو جاتی ہے ۔ لہذا موبائل پر ہیلو ، ہیلو نہ کہیں ، کیوں کہ یہ انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ صحیح اسلامی طریقہ ” السلام علیکم ” ہے ۔ یہی طریقہ اپنائیں۔ اسی طرح گڈ مارننگ (Good morning) اور گڈ نائٹ (Good night) کہنے کے بجائے ہمیشہ” السلام علیکم ” ہی بولیں ۔ السلام علیکم میں جو جامعیت اور دینی واخروی فائدہ ہے ، وہ گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ بولنے میں نہیں ہے ۔ عصری تعلیم یافتہ مسلم طبقہ جو اپنے آپ کو سیکولر اور مارڈن خیال کرتا ہے یہ لوگ موبائل پر بات کرتے ہوئے آخر میں کہتے ہیں اوکے (Ok) تھینکس (Thanks) مسلمانوں کو اس قسم کے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مذہب اسلام انگریزی یا کسی دوسری زبان بولنے سے منع نہیں کرتا ۔ اس قسم کے الفاظ بولنے سے اس لئے گریز اور پرہیز کرنا چاہیے صرف ان الفاظ کا تعلق انگریزی زبان سے زیادہ انگریزی تہذیب اور مغربی تمدن سے ہے۔ حدیث پاک: من تشبه بقوم فهو منهم: سے اغیار کی زبان نہیں ، بلکہ اغیارکے تہذیب و تمدن اور ان کے طور طریقے مراد ہیں۔ ماخوذ : از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat