لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں يہ جو قرآن کى آيات اور احاديث تحرير کى صورت ميں بزريعہ ميسج سوشل ميڈيا پر سينڈ کى جاتى ہے اور اکثر لوگ اسکو ڈيليٹ کر ديتے ہيں اسکے بارے ميں شريعت کيا کہتے ہے۔ ۔ *المستفتی۔محمد عرفان رضا ممبر سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الجواب بعون الملک الوھابــــــ موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہو اور احاديث کریمہ تحرير کى صورت ميں ہو تو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرنا جائز ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ولو محَّا لوحاََ کتب فیہ القرآن و استعملہ فی امر الدنیا یجوز” (فتاوی عالمگیری جلد اول ص / ۳۲۲) موبائل فون کے ضروری مسائل ص نمبر ۱۵۷ میـں ہے کہ موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہوتو بوقت ضرورت اسے ختم یعنی ” ڈیلیٹ (ᴅᴇʟᴇᴛᴇ) ” کرنا جائز ہے. لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ موبائل سے آیات وأحاديث ڈیلیٹ کرتے وقت ہماری نیت غلط یعنی توہین کی نہیں ہوتی اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور موبائل میں قرآن کی آیت اور احادیث کریمہ کو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرسکتے ہیں ۔ والله تعالیٰ اعلم، بالصواب کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ محمد نورجمال رضـوی دینــاجپـوری. بنگال مؤرخہ:(۲۳)ربیع الاوّل ۲٤٤١؁ھ بروز منگل منجانب. سنی مسائل شرعیہ گروپ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات