بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1886 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
موبائل سے فاتحہ پڑھنا کیسا ہے ؟
سوال : فاتحہ پڑھنے والا الگ شہر میں ہے اور شیرنی الگ شہر میں ہے کیا اس طرح موبائل کے ذریعے آن لائن فاتحہ دینا درست ہے؟ اور اگر بغیر موبائل کے ہی فاتحہ پڑھ دے تو فاتحہ ہوگا یا نہیں ۔ از روئے شرع جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عطافرمائیں عنداللہ ماجور ہوں ۔ السائل : محمدحسیب رضوی،اسلامپوری، اتردیناجپور بنگال الجواب بعون الملک الوھاب دونوں صورتوں میں فاتحہ درست ہے ۔ فتاوی بحر العلوم میں ہے:”مٹھائی آپ کی خریدی ہوئی اور آپ کی ملک ہو تو حلوائی کی دوکان پر ہو یا آپ کے جھولے میں ہرطرح فاتحہ ہوسکتی ہے” اھ (ج٢ ص٢٨ کتاب الجنائز) ہاں بزرگوں کاطریقہ یہ ہے کہ جس چیز پر فاتحہ پڑھا جائے وہ سامنے ہو اور فاتحہ دینا یادلانا فرض و واجب نہیں بلکہ مستحب امر ہے لہذا اس کے لئے بزرگوں کے طریقے کو نہ چھوڑنا چاہئے جوبھی مسلمان موجود ہو اسی سے فاتحہ پڑھوا لیا جائے کہ فاتحہ پڑھنے کے لئے عالم ، حافظ ہونا ضروری نہیں بلکہ مرد ہونا بھی کچھ ضروری نہیں کوئی عورت بھی پڑھ سکتی ہے۔ کچھ سورتیں جو اسے یاد ہوں اور کلمہ درود و غیرہ پڑھ کر یوں کہے یا اللہ تعالی میں نے جوکچھ پڑھا ہے اور یہ شیرنی ہے سب کا ثواب فلاں کی روح تک پہنچادے کماجاء فی الحدیث ھذہ لام سعد اتنے سے فاتحہ ہوجاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ