لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مقام صہبا میں سورج پلٹانے کے واقعہ کی تحقیق

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مقام صہبا میں سورج پلٹانے کے واقعہ کی تحقیق

مقام صہبا میں جو واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورج کو پلٹایا اور جب تک آپ نماز پڑھتے رہے سورج غروب نہیں ہوا.اس کے تعلق سے بیان فرمادیں کہ یہ واقعہ کیسا ہے؟ مذکورہ فتوے کی روشنی میں. یہ کوئی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لئے سوال. جزاک اللہ ۔ سائل : محمد صدر عالم نظامی مصباحی الجواب بعون الملک الوھاب

"سورج پلٹ آیا”

حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سورج پلٹ آنے کامعجزہ بھی بہت ہی عظیم الشان معجزہ اور صداقت نبوت کا ایک واضح ترین نشان ہے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ "خیبر” کے قریب ” منزل صہبا ” میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سو گئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سر اقدس کو اپنی آغوش میں لیے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ یااللہ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تا کہ علی نماز عصر ادا کرلیں۔ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی۔ (زرقانی، جلد ،۵ ص ،۱۱۳ ) (شفاء ،جلد، ۱ ص ،٤٤٨/٤٤٩ ) ( مدارج النبوۃ جلد،۲ ص، ٣٠٧/٣٠٨) ( سیرت مصطفی،ص، ٤٧٥) (عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱٠،٤۵۳، تحت الحدیث،٣١٢٤) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات