دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1806
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,865
سوال (Question):
معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے
سوال : عورت کو شرعی عذر ہو یعنی حیض یا نفاس والی ہو تو قرآن پڑھا سکتی ہے یانہیں ؟ المستفتیہ مدیحہ فاطمہ الجواب بعون الملک الوھاب پڑھا سکتی ہے جبکہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بحوالہ حلیہ تحریر فرماتے ہیں: “اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین “ اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ١ حصہ ٢ صفحہ١٠٩٢ ، رسالہ ارتفاع الحجب عن وجوہ قرأۃ الجنب) یعنی: جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایک ایک کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے بہار شریعت میں ہے:” معلمہ کو حیض یانفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر قرآن پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں ” اھ (حصہ٢ صفحہ٣٨٩ کتاب الطہارۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــــہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat