لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

معراج شریف میں واقعہ شق صدر از کتاب معراج حبیب ﷺ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

معراج شریف میں واقعہ شق صدر

اس مبارک سفر پر روانگی سے قبل حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو کھولا اور آبِ زمزم سے تین مرتبہ دھویا۔ اس مبارک عمل میں حضرت میکائیل علیہ السلام کی معاونت شامل تھی۔ شق صدر کا واقعہ چار مرتبہ پیش آیا۔ پہلی مرتبہ جب آپ قبیلۂ سعد میں بالکل ننھے بچے تھے۔ دوسری مرتبہ دس سال کی عمر میں، تیسری بار بعثت کے وقت، چوتھی مرتبہ اسراکی رات میں۔ واقعۂ شق صدر صحیح طریقوں پر ثابت ہے اور یہ حقیقت پر مبنی ہے اس کی تاویل کرنا اور اسے امرِ معنوی پر محمول کرنا درست نہیں۔اس لیے کہ اللہ جل شانہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور مافوق العادات کو عقل کے ترازو پر نہیں تولا جاسکتا۔ محدثین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرئیل امین نے جس وقت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو نکال کر آب زمزم سے دھویا ہر قسم کی اذیت دینے والی شئی کو آپ کے دل سے نکال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل نے آپ کے قلب مبارک سے سیاہ بستہ خون کو نکال دیا اور کہا کہ یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ ہے۔ حضرت شیخ دردیر نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ پر شیطان کابس چلنے والاہوتاتویہ آپ کے دل میں شیطان کے وسوسے اور غلبے کامقام ہوتا۔

شق صدر کا مقصد:

شق صدر کامقصودیہ تھاکہ جس طرح آپ کے ظاہر ی کمالات روشن ہیں اسی طرح آپ کے باطنی کمالات کوظاہر کردیاجائے۔ عارف باللہ امام سید علی حبشی رحمۃ اللہ علیہ نے واقعہ شق صدرجیساکہ اخبار واحادیث میں واردہے اور آپ کے قلب سے شیطان کا حصہ نکال دیے جانے کے بارے میں فرماتے ہیں: وَمَا اَخْرَجَ الْاَ مْلَاَکُ مِنْ قَلْبِہٖ اَذَیٰ وَّلٰکِنَّھُمْ زَادُوْہُ طُھْرًا عَلٰی طُھْرٍ (یعنی فرشتوں نے آپ کے قلبِ اطہر سے اذیت دہ چیز کو نہیں نکالا بلکہ آپ کے پاک دل پر پاکی کا اضافہ کردیا۔) (حضرت سید محمد بن علوی صاحب کتاب فرماتے ہیں:) میرے دل میں ایک دوسرا معنوی نکتہ آیاہے ا وروہ یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک رحمت سے لبریز تھا بلکہ آپ کا قلب مبارک رحمت کا منبع اور اصل ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (۱) (ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رحمت، رحمتِ عامہ اور کاملہ ہے ۔اس لیے کہ یہ وہ رحمت ہے جو ہر چیز کو وسیع ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے شیطان، اس کے اعوان واِخوان اور ان لوگوں کو جن کے لیے اس رحمت سے محرومی مقدر کردی گئی ہے نکال دیا ہے لہٰذا ان کے لیے رحمتِ رسول کا کوئی حصہ نہ رہا۔ اب اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ فرشتوں نے آپ کے قلب مبارک سے شیطان کے لیے آپ کی رحمت کا حصہ نکال دیا لہٰذا شیطان کے لیے اس رحمت سے حصہ نہ رہا۔ واللہ اعلم۔ پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات