بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1557 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
معذور شرعی کس طرح نماز پڑھے گا؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ معذور شرعی کس طرح نماز پڑھے گا؟ سائل :قاری عمر عطاری چکوال وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب جس کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہیں کر سکا تو وہ معذور شرعی ہے: اس کا حکم یہ ہےکہ وقت میں وضو کر لے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھ سکتا ہے اس بیماری سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا: جیسے کسی کو قطرے کا مرض ہے، یا دست آنا یا ریح خارج ہونا یا دکھتی آنکھ سے پانی گرنا یا پھوڑے یا نا صور سے ہر وقت رطوبت بہنا یا کان ناف پستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وضو کو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکا تو عذر ثابت ہو گیا، جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا معذور کا وضو فرض نماز کا وقت ختم ہونے سے ٹوٹ جاتا ہے، معذور کا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے ہاں اگر کوئی دوسری چیز وضو توڑنے والی پائی گئی تو وضو جاتا رہےگا (بہار شریعت حصہ2صفحہ385-مکتبۃ المدینہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ