لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

معذور شخص جو جسم کی صفائ نہیں کر سکتا تو اس کا بیٹا کرے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

معذور شخص جو جسم کی صفائ نہیں کر سکتا تو اس کا بیٹا کرے

سوال : ایک صاحب نہایت ہی ضعیف ہیں اپنے جسم کی صفائی نہیں کرسکتے اور اس وقت دنیا میں ان کی بیوی بھی نہیں ہے تو کیا ان کے جسم کی صفائی ان کا بیٹا کرسکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ یہ مسئلہ بہرحال دشوار ہے اگر ان کی اہلیہ نہیں ہیں تو سب سے پہلے ان کو حکم یہ ہے کہ وہ کسی عورت سے نکاح کریں جو ان کی خدمت کرسکے بہت سی عورتیں ضرورت مند ہوتی ہیں کہ کوئی بھی نوکری مل جائے تاکہ ان کا گزر بسر صحیح سے ہو سکے ۔ ایسی حاجتمند عورت سے نکاح کرلیں اور خدمت لیتے رہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ لیکن فرض کیجئے ایسا کوئی انتظام نہیں ہے اور کسی مصنوعی طریقے سے وہ اپنی صفائی نہیں کر سکتے ہیں تو ایسی مجبوری میں بیٹے کو یہ اجازت ہوگی کے اپنے بائیں ہاتھ پر پلاسٹیک وغیرہ کا دستانہ نصف ہاتھ تک پہن لے ،دستانہ پہننے کے بعد وہ ان کو استنجا کراسکتا ہے ۔ وہ بھی اس طور پر کیا ادھر آنکھ نہ جائے، منہ پھیر لے رہے اور صفائی کردے ، لیکن یہ انتہائی مجبوری کی صورت میں حکم ہیں اور اگر کوئی ایسی صورت نہ ہو تو ہرگز اجازت نہ ہوگی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات