بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2311 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسلمہ عورتوں کا ذبیحہ کھانا جائز ہے یا نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسلمہ عورتوں کا ذبیحہ کھانا جائز ہے یا نہیں اور یہ بھی بتائیں کہ عورتیں قربانی کر سکتی ہیں یا نہیں مدلل جواب تحریر فرمائیں. بینوا و توجروا. سائل : مولانا محمد نوشاد عالم علائی ارریاوی . خطیب و امام سنی جامع مسجد بھوپال۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ عورتوں کا ذبیحہ جائز ہے ۔ (فتاوی بحرالعلوم جلد 4 صفحہ 502) بہار شریعت جلد 3 صفحہ 119 غیر مخرجہ میں ہے : ” ذبح میں عورت کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی مسلمہ یا کتابیہ عورت کا ذبیحہ حلال ہے اور مشرکہ اور مرتدہ کا ذبیحہ حرام ہے ۔ فتاوی عالمگیری کتاب الذبائح، الباب الاول جلد 5 صفحہ 286 میں ہے ” المراۃ المسلمۃ والکتابیۃ فی الذبح کالرجل ” جس طرح مرد قربانی کر سکتا ہے اسی طرح سے عورتیں بھی قربانی کر سکتی ہیں ۔ بشرطیکہ اچھی طرح سے ذبح کرنا جانتی ہوں اور اگر نہیں جانتی ہو تو دوسرے سے کرائے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد شمس تبریز قادری علیمی، سابق استاذ مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف مالدہ مغربی بنگال۔ الجواب صحیح مفتی محمد انور اشرفی جامعی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ