صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2634 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,596

سوال (Question):

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــ: مسلمان عورتوں کیلیے مانگ میں سیندور لگانا ناجائز و حرام ہے اور جب تک سیندور لگا رہے گا تو غسل نہیں ہوگا کیونکہ یہ پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکتا ہے ۔ چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “سیندور لگانا مثلہ میں داخل اور حرام ہے، نیز اوس کا جرم پانی بہنے سے مانع ہوگا جس سے غسل نہیں اترے گا.” (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفحہ 60 مکتبہ رضویہ کراچی) جبکہ فی زمانہ ٹکلی (بندی) لگانا مسلمان عورتوں میں عام ہے کہ وہ عمومی طور پر لگاتی ہیں لہذا اب یہ ہندو عورتوں کے ساتھ خاص نہیں رہا تو اس کے لگانے میں ان سے مشابہت نہیں ہوگی، اس لیے اب مسلمان عورتیں ٹکلی (بندی) لگا سکتی ہیں مگر چونکہ ٹکلی (بندی) پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکتی ہے تو وضو اورغسل کیلیے اس کو اتارنا ضروری ہوگا ورنہ وضو اور غسل نہیں ہو گا. چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “ٹکلی بھی وضو و غسل کے ادا کرنے میں مانع ہیں۔” (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفحہ 60 مکتبہ رضویہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat