بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1471 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد کے گیٹ پر گنبد ہو تو اس کے نیچے چپل جوتا نکالنا کیسا ہے؟
جیکٹ اور جرسی کی چین کھول کرنماز پڑھنا کیسا ہے؟ (١) ہمارے یہاں اٹوا بازار میں سنی رضا جامع مسجد کے گیٹ پر چند سال قبل تعمیر شدہ ایک گنبد ہے جس کی شکل قدرے گنبد خضریٰ سے ملتی جلتی ہے، گنبد مذکور کے نیچے چھت ڈھلی ہوئی ہے جس سے گنبد کا اندرونی حصہ بند ہے اب سوال یہ ہے کہ مصلیان کرام کا اس گنبد کے نیچے زمین پر چپل، جوتے نکالنا کیسا ہے؟ (٢) جیکٹ اور جرسی وغیرہ کا چین کھول کر نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں۔ چین بند کرکے نماز پڑھنے کی صورت میں بہت سے لوگوں کو کافی دشواری ہوتی ہے بسا اوقات چین ٹوٹ کر خراب بھی ہو جاتا ہے حکم شرع سے آگاہ فرمائیں۔ المستفتی: محمد عثمان علیمیؔ امام رضا جامع مسجد اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب (١) جائز ہے۔ (٢) نماز ہو جائے گی۔ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’انگرکھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ۔ ‘‘ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج٧، ص٣٨٦، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) فتاوی فقیہ ملت میں ہے:’’اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ اھ ( فتاوی فقیہ ملت، ج١، ص١٧٤، شبیر برادرز، لاھور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ