بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-300 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شریعت میں بہو پر قانونی طور پر ساس سسر کی خدمت فرض نہیں، بلکہ وہ اپنے شوہر کی ذمہ دار ہے۔ تاہم اخلاقی طور پر شوہر کے والدین کو اپنے والدین کا درجہ دینا اور ان کی خدمت کرنا بڑی سعادت اور حسنِ معاشرت کی دلیل ہے۔ اسی طرح ساس پر بھی بہو کو بیٹیوں کی طرح سمجھنا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ