صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2299 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مسجد کی کھڑکی اور دروازہ میں لگے ہوئے شیشوں میں نمازی کے عکس نظرآنے سے نماز کا حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,724

سوال (Question):

مسجد کی کھڑکی اور دروازہ میں لگے ہوئے شیشوں میں نمازی کے عکس نظرآنے سے نماز کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسجد کی کھڑکی اور دروازہ میں لگے ہوئے شیشوں میں نمازی کے عکس نظرآنے سے نماز کا حکم

سوال : کیا مسجد کی کھڑکی اور دروازہ میں لگے ہوئے شیشوں میں نمازی کے عکس نظرآنے سے نماز نہیں ہوتی ہے؟ اور سنگ مرمر میں بھی نمازی کا عکس نظر آتا ہے تو نماز ہو گی یا نہیں ؟ سائل : حافظ محمد نوید رضوی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب بصورتِ مسئولہ مسجد کی کھڑکی میں لگے ہوئے شیشوں کے سامنے اگر نمازی کا عکس نظر آتا ہے، تو نماز ہوجائے گی، کراہت نہیں ہوگی ۔ کیوں کہ عکس تصویر کے حکم میں نہیں ہے ۔ ہاں! البتہ اگر اس کی وجہ سے نمازی کی توجہ ہٹ جاتی ہے، یک سوئی اور خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شیشے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے ۔ اس صورت میں نماز پڑھتے وقت شیشے پر کپڑا وغیرہ ڈال کر نماز پڑھ لیاکریں ۔ فتاوی شامی میں ہے: ولا بأس بنقشه خلا محرابه فإنه يكره لأنه يلهي المصلي ۔ قوله: لأنه يلهي المصلي أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده إلخ وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب. والظاهر من هذا أن الكراهة هنا تنزيهية، فافهم مطلب في أحكام المسجد، ج:1 ص:658 صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال ہوا: “جس مکان میں آئینے قد آدم چار طرف لگے ہوں ،اُس مکان میں نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ ” ، آپ نے جواب میں لکھا:” آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سببِ کراہت تصویر ہے ۔ اور وہ یہاں موجود نہیں ۔ اور اگر اسے تصویر کاحکم دیں تو آئینہ کارکھنا بھی مثل تصویر ناجائز ہوجائے ۔ حالانکہ بالاجماع جائز ہے ۔ اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہی نہیں، بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت(شفافیت) کی وجہ سے لوٹ کر چہرے پر آتے ہیں ،گویا یہ شخص خود اپنے کو دیکھتاہے ،نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو ۔ فتاویٰ امجدیہ ،جلداول، ص:184 وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat