بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1966 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد میں کانچ لگے ہوں اس میں تصویر نظر آئے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 1) مسجد کی کھڑکی میں کانچ لگا ہوا ہے اس میں نماز پڑھتے وقت تصویر نظر آتی ہے تو کیا اس صورت میں نماز ہوجائےگی؟ 2) سردی کے موسم میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہیکہ بہت سے لوگ شال یا چادر اوڑھ کر نماز ادا کرتے ہیں ان کے متعلق شریعت کیا حکم صادر کرتی ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں ۔ سائل:علی شان اشرفی جائس امیٹھی یوپی انڈیا. الجواب اللہم اجعل لی النور والصواب بلا کراہت نماز ہوجائے گی کیونکہ کانچ میں نظر آنے والا عکس تصویر نہیں ہے. ہاں اگر آئینہ میں عکس نظر آنے سے نماز سے غافل ہوجانے کا خدشہ ہو تو آئینہ کے سامنے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے. چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : "سُئِلْتُ عَمَّنْ صَلَّی وَاَمَامُہُ مِرْآۃ فَاَجَبْتُ بِالجَوازِ آخِذاً مِمَّا ھَاھُنَا, اِذِ الْمِرْآۃُ لَمْ تُعْبَدْ وَلاَ الشِّبْحُ الْمُنْطَبَعُ فِیْھَا , وَلاَ ھُوَ مِنْ صَنِیْعِ الْکُفَّارِ, نَعَمْ! اِنْ کَانَ بِحَیْثُ یَبْدُوْ لَہ فِیْہ صُوْرَتُہ واَفْعالُہ رُکُوْعاً وسُجُوْداً وقیاماً وقعوداً وَظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ یَشْغُلُہ وَیَلْھٰی فَاِذْنُُ لاَیَنْبَغِیْ قَطْعاً.” (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 3 صفحہ 416 مکتبۃ المدینہ کراچی) یعنی مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے شیشہ کے سامنے نماز پڑھي تو میں نے نماز کے درست ہونے کا حکم دیا یہاں (یعنی انڈیا) کے اعتبار سے کیونکہ یہاں شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ ہی شیشے میں ڈھالی گئی صورت ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے۔ ہاں اگر شیشہ میں اس کی صورت اس کے افعال رکوع سجود قیام قعود وغیرہ ظاہر ہوں جن کے باعث نماز سے غافل ہوجانے کا گمان ہو تو قطعا اسے اجازت دینا مناسب نہیں. صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : "آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں۔ کہ سببِ کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں ۔ اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے. ” (فتاوی امجدیہ جلد 1 صفحہ 184) 2) شال یا چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اس طرح اوڑھے کہ ایک کنارا دوسرے مونڈھے پر ڈال دے اور دوسرا لٹک رہا ہو نہ کہ اس طرح کہ کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں کہ یہ ممنوع ومکروہ تحریمی ہے۔ ایسے ہی ایک ہی مونڈھے پر ڈالا اس طرح کہ ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر، جیسا عموما اس زمانہ میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے، تو یہ بھی مکروہ ہے۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم ص:624پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب. کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ