دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2078
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,270
سوال (Question):
مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
سوال : مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اور مسافر فجر، مغرب، جمعہ میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 99 میں ہے اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 144 پر ہے ” لوجوبھا ای الجمعۃ شرائط فی المصلی ھی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ کذا فی الکافی ” ١ھ. اور تنویر الابصار میں ہے ” شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر ” ١ھ. (ج٢ س ١٥٣) اور مسافر نماز فجر، مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کرسکتا ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر، غلام. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ١٠٠) اور درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 155 پر ہے ” یصح للامامۃ فیھا من صلح لغیرھا فجازت لمسافر وعبد ومریض ” واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــہ : محمد اویس القادری امجدی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد ١ صفحہ 225
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat