لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مسافر نے مقیم امام کے پیچھے دو رکعت پڑھ کرسلام پھیر دیا تو ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مسافر نے مقیم امام کے پیچھے دو رکعت پڑھ کرسلام پھیر دیا تو ؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ایک شخص مسافر تھا مسجد میں نماز پڑھنے گیا امام کی دو رکعت ہو گئی تھی وہ شخص تیسری رکعت میں شامل ہوگیا اور چوتھی رکعت میں سلام پھیر دیا تو کیا اسکی نماز ہوگئی  یا نہیں؟ المستفتی: نور محمد دیوریا یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

نہیں کہ امام کی اقتدا کے سبب اس پر چار رکعت پڑھنا فرض تھا۔ بحر الرائق میں ہے: ‏(قوله: ولو اقتدى مسافر بمقيم في الوقت صح وأتم) ؛ لأنه يتغير فرضه إلى ‏الأربع للتبعية كما تتغير نية الإقامة لاتصال المغير بالسبب، وهو الوقت وفرض ‏المسافر قابل للتغير حال قيام الوقت كنية الإقامة فيه‎.‎” اھ (ج٢، ص٢٣٥, ٢٣٦ كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان) مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: ‏”وإن اقتدى مسافر بمقيم” يصلي رباعية ولو في التشهد الأخير "في الوقت ‏صح” اقتداؤه "وأتمها أربعا” تبعا لإمامه واتصال المغير بالسبب الذي هو ‏الوقت‎.‌‏ ‏” اھ (ص١٦٤, ٦٥، كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت لبنان) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٩ صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق ٢٧ اگست ٢٠٢٣ء ميراني دار الافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات